محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پاکستان کے خلاف ایک عالمی سازش. تحریر: انجینئر عبدالماجد کلوڑ #BenazirBhutto #ZindaHaiBibiZindaHai

0
85

ایک پاکستانی کی حیثیت سے میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کو پاکستان کے خلاف عالمی سازش کا حصہ سمجھتا ہوں۔ ایسی سازش جس کے تانے بانے بننے والوں کے سامنے نتائج کے حوالے سے دو امکانات تھے پہلا یہ کہ اس سانحہ کی دھمک سے پاکستان کے جغرافیئے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اگر جغرافیہ صدمہ جھیل گیا تو دوسری صورت میں پاکستان کے پاس بین الاقوامی سطح پر پہچان رکھنے والی قیادت نہیں ہوگی۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ محترمہ کے قتل کی تحقیقات اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں جو لوگ پیپلز پارٹی کو دوش دے رہے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سازش کے بعض کردار ریاست کے اہم ترین اداروں سے تعلق رکھتے تھے۔ جنرل پرویز مشرف ایک مثال ہے۔ انہیں قانون کے شکنجے سے کون کیسے نکال کر لے گیا۔ کیا کسی میں حوصلہ ہے کہ ایک آزاد کمیشن قائم کرواکے اس امر کی تحقیقات کرواسکے؟
محترمہ کے قتل کے ریاستی مہروں میں دو افراد کا کردار تحقیق طلب ہے۔ پہلا مشرف’ دوسرا وزارت داخلہ کے اس وقت کا اور موجودہ ترجمان۔ ان باتوں کو بھی ایک طرف اٹھا رکھئے۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے چاہت و محبت سے سرشار عقیدت مندوں کے قافلے آج پھر رواں دواں ہیں لیاقت باغ راولپنڈی کی جانب کہ آج 27 دسمبر شہید بینظیر بھٹو کے یوم شہادت کا دن اپنے دامن میں بینظیر بھٹو سے وابستہ یادیں اپنے دامن میں سمیٹے 12 سال بعد پھر لوٹ کر آنے کو ہے دل ماننے کو تیار نہیں کہ 12 سال جتنا طویل عرصہ گزرا ہو
ہمارے تو آج بھی قدم ان راہوں پر ہیں ،جن راہوں پر شہید رانی کا خون رسا، تابوت ہمارے کندھوں پر تھا، ابھی تو ان عظیم راہوں پر چلنے والوں کی نہ تو چاہت وعقیدت کی پیاس بجھی ہے، نہ چلتے قافلے واپس لوٹے ہیں۔ کہ ستم ظریف وقت نے پھر لوٹ کر آنے کی صدا دی ہے۔
ان راہوں پر عقیدت مندوں کے جوق در جوق چلتے قافلے ثابت کرا رہے ہیں، کہ اے وقت تو ان داستانوں یادوں کو گم گشتہ خیال ودل نہیں بنا سکتا۔
اے وقت دیکھ ان راہوں پر چلنے والے 12 سال بعد بھی روز اول کی مانند مستانہ وار چل کر کس عزم کیساتھ باور کرا رہے ہیں، کہ ہم ان راہوں پر ہزار سال چلینگے، جامہ تار تار چلینگے، ننگے پا چلینگے بلا تفریق رنگ نسل کے، بلا تفریق شاہ و گدا کے چلینگے، کہ ہمیں ان راہوں سے پیار ہے ان راہوں پر نزول کرتی، چلتی ہواوں میں رچی بسی خوشبووں سے پیار ہے جب تک اندھیروں کا راج ہو گا جب تک بھوک وافلاس ہو گا یہ راہیں آباد رہینگی ان راہوں پر ہمارے قائدین کی جے جے کار ہو گی اور ارض پاک کی پاک فضاوں میں ہمارے شہیدوں کی آمروں کو للکارنے کی گونجتی ہوئی للکار ہوگی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here