مردِ حُر آصف علی زرداری – ایک سیاسی قیدی تحریر: عبدالماجد کلوڑ

0
134

آصف علی زرداری 26 جولائی 1955 میں نواب شاہ کے معروف زمیندار حاکم علی زرداری کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ شروع سے ہی ایک زمیندار اور سرمایہ دار خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن جب ان کی شادی محترمہ بے نظیر بھٹو کیساتھ ہوئی تو انہیں بد عنوانی کے الزامات میں عدالتوں، جیلوں اور بدترین مقدمات کا سامنا کرنا پڑا لیکن آج تک ان پر کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوا اور وہ ہمیشہ باعزت بری ہوئے۔

جب صدر پاکستان بنے تو جیسا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سیاسی انتقامی کاروائیوں پر یقین نہیں رکھتی اس لیے انہوں نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کردیا۔ 18 دسمبر 1987ع میں آصف علی زرداری کی شادی پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کیساتھ ہوئی جو 1988ع میں مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ اور ان کے پہلے دور حکومت میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش کے مطابق آصف علی زرداری سیاست سے دور رہے پر ان کے خلاف کرپشن اور بدعنوانی کے مقدمات بنائے گئے اور اگست 1990ع میں محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کردیا گیا اور بھٹو خاندان کے پرانے سیاسی حریف غلام مصطفٰی جتوئی کو نگران وزیراعظم بنا دیا گیا، جس نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کا آغاز کیا اور ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی مگر سیاست سے دور رہنے کے باوجود بھی غلام مصطفٰی جتوئی نے سیاسی بنیادوں پہ ان پر مقدمات درج کرکے ان کی اہلیہ کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرنا چاہا اور اکتوبر 1990 میں ان پر سنگین الزام جیسا کہ “محترمہ بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں منصوبوں پر”دس فیصد رشوت” لینے، ” اغواء” اور ایک انگریز بزنس مین کی ٹانگ پر بم باندھ کر تاوان جیسے سنگین الزامات میں گرفتار کیا گیا اور بھٹو خاندان کے دشمنوں نے انہیں (Mr Ten Percent) کہنا شروع کردیا۔
1990ع کے انتخابات میں آصف علی زرداری جیل میں رہتے ہوئے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے کے باوجود جھوٹے مقدمات کا سامنا کرتے رہے اور ڈھائی سال سے زیادہ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد 1993 میں عدالت نے انہیں تمام مقدمات سے باعزت بری کردیا اور جیل سے رہا کردیئے گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت کے دوران ستمبر 1996ع میں ان کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کے تحت 70 کلفٹن کے سامنے ان کے بھائی میر مرتضی بھٹو اور ان کے ساتھیوں کو پولیس کے ہاتھوں شہید کروا دیا گیا اور ان کے قتل کا الزام آصف علی زرداری پر لگا دیا گیا اور سات ہفتے بعد نومبر 1996 میں اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے آصف علی زرداری پر میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل اور کرپشن کے الزامات لگا کر بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کردیا. (بعد میں جس کا اعتراف جنرل نصیرالدین بابر نے کیا کہ مرتضی بھٹو کا قتل بے نظیر کی حکومت گرانے کی ایک شازش تھی) اور ایک بار پھر آصف علی زرداری کو گرفتار کر لیا گیا۔
1997ع میں جب وہ کراچی جیل میں تھے تو وہ سینیٹر منتخب ہوئے اور مئی 1999ع میں انہیں جیل میں بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں ان کی زبان کاٹی گئی اور ان کی کمر تشدد سے شدید متاثر ہوئی اور نومبر 2004 تک وہ جیل میں رہے لیکن ایک مرتبہ پھر ان پر کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوا اور انہیں عدالت کے حکم پر جیل سے رہا کردیا گیا، مگر آج تک کوئی بھی ان کو ناحق بند کرنے اور بدترین تشدد کرنے پر جوابدہ نہ ہوا اور نہ ہی کسی کو سزا ملی۔
ستمبر 2007 میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان آنے کا اعلان کیا تو اس وقت آصف علی زرداری نیویارک میں زیر علاج تھے اکتوبر 2007 میں جب ان کی اہلیہ پاکستان واپس آئیں تو وہ ان کے ہمراہ نہ تھے بلکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دبئی میں ہی رہے، جب بے نظیر بھٹو پاکستان پہنچی تو کراچی میں لاکھوں لوگوں نے ان کا پر تپاک استقبال کیا لیکن کراچی ایئرپورٹ سے بلاول ہاؤس جاتے ہوئے راستے میں کارساز کے مقام پر دو بم دھماکے کئے گئے جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو بال بال بچیں مگر انکے 170 سے زائد کارکن شہید ہوئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے دھماکوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن ستم ظریفی یہ ہوئی کہ جو شخص 1999ع میں آصف علی زرداری کے جیل میں ہونے والے تشدد میں ملوث رہا اسے بم دھماکوں کی تحقیقات کا سربراہ بنا دیا گیا جسے محترمہ بے نظیر بھٹو نے قبول کرنے سے انکار کر دیا، انصاف کی عدم فراہمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بے نظیر بھٹو اپنے شوہر آصف علی زرداری سے ملنے دبئی چلی گئیں اور اپنے ممکنہ قتل میں جنرل پرویز مشرف اور جنرل اعجاز شاھ کو نامزد کیا، نومبر 2007ع میں جنرل مشرف نے آئین کو معطل کر کے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی، ایمرجنسی کے لگتے ہی محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان لوٹ آئیں جبکہ آصف علی زرداری ایک مرتبہ پھر اپنے بچوں کے ہمراہ دبئی میں ہی رہے۔
27 دسمبر 2007ع کو لیاقت باغ راولپنڈی میں الیکشن مہم کے جلسے میں خطاب کرنے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو پر گولیاں چلائی گئیں اور اس کے فوراً بعد بم دھماکہ کیا گیا جس کے نتیجے میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہوگئیں ان کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری اپنے بچوں کے ہمراہ واپس پاکستان لوٹ آئے اور ایک بین الاقوامی ادارے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا، جس کی تحقیقات کے بعد عدالت نے پانچ دہشتگردوں کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا مجرم قرار دیا (جنہوں نے بعد میں قتل کا اعتراف بھی کیا)، دو پولیس افسران کو جائے وقوعہ سے خون کو دھلانے اور ثبوتوں کو مٹانے کے جرم میں 17 سال کی سزا سنائی گئی لیکن اگلی ہی پیشی پہ ضمانت پر اُنہیں رہا کر دیا گیا اور جنرل مشرف کو قتل کی سازش کرنے کے جرم میں اشتہاری قرار دے دیا اور وہ بھی نہ گرفتار ہوئے اور نہ ہی انہیں کبھی انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا اور وہ کمر کی تکلیف کا جھوٹا بہانہ بناکر بیرون ملک فرار ہوگیا اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتیں دیکھتی رہ گئیں. اس واقعے کو تقریباً 12 سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر ان کے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو،بھائی شہید میر مرتضیٰ اور شہید شاہنواز کی طرح شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا بے گناہ لہو بھی آج تک انصاف کا منتظر ہے، اور ہمارے عدالتی نظام پہ سوالیہ نشان ہے۔
اسے تاریخ کی ستم ظریفی نہ کہیں تو اور کیا کہیں بے نظیر بھٹو سے شادی کے 20 سالہ زندگی میں آصف علی زرداری تقریباً 11 برس جیل میں رہے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی وصیت کے مطابق آصف علی زرداری کو پاکستان پیپلزپارٹی کا شریک چیئرمین نامزد کیا گیا، اس وقت عوام اور جیالوں میں شدید غم و غصے کی لہر تھی اور ملک ٹوٹنے کے قریب تھا لیکن آصف علی زرداری نے اپنے جذبات کو ایک طرف رکھ کے ملک کی سالمیت بچانے کیلئے اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے کہے ہوئے الفاظ کہ “جمہوریت بہترین انتقام ہے” پہ عمل کرتے ہوئے “پاکستان کھپے” کا نعرہ لگا کر ملک کو ٹوٹنے سے بچایا اور شہید بے نظیر بھٹو کی خواہش کے مطابق جمہوریت کو مضبوط کیا اور آمر مشرف کو اقتدار سے بیدخل کیا۔
2008ع کے الیکشن کے بعد آصف علی زرداری صدر پاکستان منتخب ہوئے اس وقت ملک شدید اقتصادی، معاشی بحران اور دہشتگردی کی لپیٹ میں تھا مگر انھوں نے اپنی سیاسی بصیرت سے اور نہایت ہی دانشمندانہ طریقے سے ان بحرانوں کا مقابلہ کیا پارلیمان اور جمہوریت کی خاطر وہ اپنے صدارتی اختیارات سے دستبردار ہوگئے جن اختیارات کو ماضی میں ڈکٹیٹر جمہوری حکومتوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرتے آرہے تھے اور رضامندی سے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو دینے والے پہلے صدر بنے، انہوں نے عالمی برادری کے سامنے اپنا موقف پیش کیا کہ “امداد نہیں تجارت چاہیے” انہوں نے اسی بنا پر پڑوسی ممالک چین، ایران، اور دیگر ملکوں ترکی، جاپان، سری لنکا، اور انڈونیشیا کے ساتھ متعدد معاہدوں پہ دستخط کئے اور ایک غیر مشروط زر کی منتقلی کا پروگرام شروع کیا جس کا نام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام رکھا گیا جس کا مقصد غربت میں کمی لانا تھا جو نہایت ہی کامیابی کے ساتھ اب تک چل رہا ہے جس سے لاکھوں غریب افراد مستفید ہو رہے ہیں انہوں نے 1973 کے آئین کو اس کے اصل شکل میں بحال کروایا اور صوبوں کو تاریخی 18ویں آئینی ترامیم کے ذریعے خود مختار بنایا جس کے لیے شہید بے نظیر بھٹو سالہا سال جدوجہد کی، پاک ایران گیس پائپ لائن کو شروع کرنا ان کے خواب کی تعبیر تھی جس کا انہوں نے آغاز کیا۔ بلوچستان کی محرومیاں ختم کرنے کے لیے آغاز حقوق بلوچستان پروگرام کا آغاز کیا اور بلوچ عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی اور انہیں قومی دھارے میں لانے کے لیے سر توڑ کوششیں کی، پشتونوں کو اپنی شناخت دینے کی خاطر سرحد (NWFP) کا نام تبدیل کر کے خیبر پختون خواہ (KPK) رکھ دیا گیا جس سے پشتونوں کا اعتماد بحال ہوا اور انہیں اپنی کھوئی ہوئی شناخت مل گئی، چین کے ساتھ تاریخ ساز منصوبے سی پیک کا معاہدہ کیا جس سے اس خطےکی تقدیر بدلنے والی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سو فیصد اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 150 فیصد اضافہ کیا اور ان ملازمین کو بحال کیا جو آمر مشرف کے دور حکومت میں برطرف کردیئے گئے تھے، بے زمین ہاریوں کو زمینیں دیں، بیروزگاروں کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم کیا اور 2013 میں اپنے جمہوری دور حکومت کے پانچ سال مکمل کرکے آئینی طریقے سے اقتدار کو منتقل کیا، حالانکہ اس دوران ان پر کئی مشکلاتیں آئیں لیکن ان مشکلاتوں کے باوجود وہ پاکستان کے پہلے جمہوری صدر بنے جنہوں نے اپنا دور حکومت جمہوری طریقے سے مکمل کیا، 2013 کے انتخابات کے الیکشن مہم میں حصہ لینے پر پیپلز پارٹی کے لیڈروں پر پابندیاں لگائیں گئیں اور انہیں دھماکوں اور ریلیوں پر حملوں کا جواز بتاتے ہوئے الیکشن مہم چلانے نہیں دی گئی جوکہ ایک بڑی سازش تھی، کتنے ہی خدشات اعتراضات کے باوجود صدر آصف علی زرداری نے الیکشن کے نتائج قبول کیئے۔ اور ایک جمہوری حکومت سے دوسرے جمہوری حکومت کو اقتدار کو منتقلی میں بھرپور ساتھ دیا یہ اس خواب کی تعبیر تھی جو شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے دیکھا تھا کہ جمہوریت خودمختار ہونی چاہیے۔
2018 کےالیکشن سے پہلے میڈیا میں ایک جھوٹی مہم چلائی گئی کہ سابقہ جمہوری حکومتیں منی لانڈرنگ اور کرپشن میں ملوث تھی اور ایک مرتبہ پھر آصف علی زرداری کو سیاست سے دور کرنے کیلئے سازشیں شروع کی گئیں اور 2018ع کے الیکشن سے ڈیڑھ مہینہ پہلے ایف آئی اے کے ذریعے آصف علی زرداری پر جعلی بینک اکاؤنٹ کی منتقلی میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر ایف آئی آر درج کر دی گئی اور تحقیقات کا آغاز کردیا کچھ ہفتوں کے بعد غیرقانونی طریقے سے مقدمہ بینکنگ کورٹ کراچی سے سپریم کورٹ اسلام آباد منتقل کردیا گیا، جولائی 2018 کے شروع میں الیکشن سے صرف 15 دن پہلے بنا کسی مقدمے کے سپریم کورٹ نے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا ان تمام سازشوں کےباوجود آصف علی زرداری نوابشاھ سے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے، جیسا کہ سب جانتے ہیں 25 جولائی 2018 کے انتخابات پاکستان کی تاریخ میں طے شدہ انتخابات تھےجس سے اپنی مرضی کے نتائج اخذ کیے گئے یہاں تک کہ فارم 45 بھی پولنگ ایجنٹوں کو نہیں دیئے گئے تا کہ اپنی مرضی کے مطابق امیدواروں کو جتوایا جاسکے اور عمران خان کو بطور وزیراعظم مسلط کیا جائے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے بےحد خدشات اور اعتراضات کے باوجود پارلیمنٹ کو مستحکم کرنے کے لیے اور جمہوری روایات کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر پارلیمنٹ میں جاکر جمہوری طریقہ کار میں حصہ لیا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جس دن وزیراعظم کے انتخابات کیلئے ووٹنگ کا مرحلہ آیا اسی دن علی الصبح بغیر کسی ثبوت کہ آصف علی زرداری کے گرفتاری وارنٹ جاری کردیئے گئے۔ وہ اس دن اپنی ضمانت کروانے کیلئے کورٹ پنہچے حالانکہ انہیں قومی اسمبلی کے ممبر ہونے کے ناطے اس وقت وزیراعظم کے انتخابات میں اپنا ووٹ دینے کیلئے پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے تھا۔ حسبِ توقع عمران خان نے بطور وزیراعظم پارلیمنٹ میں اپنی پہلی ہی تقریر میں وہ زبان استعمال کی جو وہ ہمیشہ کنٹینر کھڑے ہوکر کرتے آرہے تھے۔ اس نے آصف علی زرداری کو چور ڈاکو اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ اور انہیں جیل بھیجنے کی دھمکی بھی دی گئی حالانکہ وہ کسی جرم میں ملوث نہیں پائے گئے تھے اس سے حکومت کے عزائم یہ ظاہر کررہے تھے کہ وہ آصف علی زرداری کو گرفتاری کے ذریعے بلیک میل کر کے 18ویں آئینی ترمیم سے دستبردار کیا جائے لیکن آصف علی زرداری اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے اور انھوں نے 18ویں آئینی ترمیم پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا۔ دو مہینے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک جی آئی ٹی بنائی اس نام نہاد جی آئی ٹی میں آئی ایس آئی کو بھی ملوث کردیا اور اس میں مختلف انٹیلیجنس کے افسران کو بھی شامل کردیا گیا تاکہ وہ جعلی بینک اکاؤنٹ کی تحقیقات کریں۔ ان تمام تر کوششوں کےباوجود جے آئی ٹی آصف علی زرداری کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکی۔
27 دسمبر 2018 کو جب پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے شہیدوں کی سرزمین گڑھی خدا بخش میں محترمہ بے نظیر شہید کی گیارہویں برسی کے موقع پر ان کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے تو عین اسی وقت شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور لیڈیز ونگ کی صدر فریال تالپور، وزیراعلٰی مراد علی شاہ اور دیگر رہنماؤں کے نام بناکسی ثبوت بناکسی جواز کے ای سی ایل میں ڈالے گئے۔ مقدمے کے آغاز میں چیف جسٹس نے مزید تحقیقات کیلئے کیس نیب راولپنڈی منتقل کردیا پھر نیب (جسے سابقہ ڈکٹیٹر مشرف نے سیاسی رہنماؤں کو انتقام کا نشانہ بنانے کے غرض سے بنایا تھا) اس نے تحقیقات کا آغاز کیا اور جب بھی انہیں بلایا گیا وہ ان کے سامنے پیش ہوئے اس کے باوجود کہ جے آئی ٹی میں ایف آئی اے اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کارندے بھی شامل تھے اور سپریم کورٹ ان کے خلاف بھی ثبوت لانے میں ناکام رہی ان کے بار بار سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کے بلانے پر مکمل تعاون کرنے اور ان کے سوالوں کے جواب دینے کے باوجود نیب نے انہیں غیرقانونی طریقے سے 10 جون 2019 کو گرفتار کیا اور جیل کے قانون کے مطابق اور نیب کے تجویز کردہ ڈاکٹروں نے ان کا میڈیکل چیک اپ کیا جنہوں نے تین دن بعد رپورٹ دی کہ ان کے دل کی تین شریانیں بند ہیں اور ان کا شگر لیول اور بلڈپریشر کنٹرول میں نہیں لیکن پاکستان کے ایک سابقہ صدر، موجودہ ایم این اے اور بغیر کسی جرم ثابت ہونے کے گرفتار کئے گئے آصف علی زرداری کو اسپتال منتقل کرنے کے بجائے اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا اور انہیں جیل میں کسی بھی قسم کی کوئی سہولت نہیں دی گئی اور اگلے دن یعنی 14 جون 2019 کو ان کی ہمشیرہ اور ممبر سندھ اسمبلی فریال تالپور کو بغیر کسی جرم کے نیب کے ہاتھوں گرفتار کیا گیا، یکم جولائی 2019 کو سابق صدر آصف علی زرداری کا ٹی وی چینل پہ جاری انٹرویو نشر ہونے سے روک دیا گیا اور ان کے ٹی وی چینلز پر لائیو انٹرویو پر پابندی لگادی گئی۔
پاکستان کے آزادی دن 14 اگست کو ان کی چھوٹی بیٹی کو ان سے ملنے سے روک دیاگیا حالانکہ ان کے پاس کورٹ کا اجازت نامہ موجود تھا لیکن انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑادی گئیں جب وہ ان سے ملنے نیب ہیڈکوارٹر گئیں تو انہیں نیب کے مین گیٹ کے سامنے چار گھنٹے انتظار کروایا گیا، 29 اگست کی نصف رات کو ان کے خاندان کے لوگوں کو میڈیا کے ذریعے ان کی کی خرابیء صحت کے حوالے سے اطلاع ملی ان کی تشویشناک حالت کے باعث انہیں “کارڈک کیئر اسپتال” میں منتقل کیا گیا ہے حالانکہ قانون یہ ہے کہ جیل انتظامیہ قیدی کو علاج کروانے اور اسپتال منتقل کرنے سے پہلے قیدی کے خاندان والوں کو آگاہ کرے مگر آصف علی زرداری کے تین بار چیک اپ کرنے کے بعد بھی ان کے خاندان والوں کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی، دوسری صبح ان کی بیٹی آصفہ بھٹو عدالت کا حکم نامہ اپنے ہاتھ میں تھامے اپنے بیمار والد کو اسپتال دیکھنے پہنچی تو اسپتال کے دروازے بند تھے بلکہ مریضوں کو بھی اندر یا باہر جانے کی اجازت نہ تھی، کافی کوششوں کے بعد جب وہ اندر داخل ہوئی تو پولیس کے حصار میں اپنے والد کو ٹیسٹوں کے لئے لیکر جاتے ہوئے دیکھا وہ بلکل پولیس کے گھیرے میں تھے انہوں نے اپنے والد کو سراسری نگاہ سے دیکھا جب انہیں وہیل چیئر پر لیبارٹری لےکر جایا رہا تھا، آصفہ بھٹو نے اپنے والد کے پاس جانے کی کوشش کی مگر پولیس نے انہیں ملنے سے روک دیا اور یہاں تک کہ پولیس کی جانب سے انہیں دھکے بھی دیئے گئے اور نہایت ہی برا سلوک کیا گیا اور اسپتال کی اجازت کے بغیر آصف علی زرداری کو دوبارہ جیل منتقل کیا گیا حالانکہ ان کی گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر انہیں اسپتال میں ہی ہونا چاہیے تھا پیپلزپارٹی نے بارہا انسانی حقوق کی بنیادوں پر انہیں اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا مگر بےحس حکمرانوں کے کانوں جوں تک نہ رینگی عید سے کچھ دن پہلے آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے باعث پولی کلینک اسپتال لےجایا گیا جہاں ڈاکٹروں کی میڈیکل ٹیم نے انہیں ایڈمٹ کردیا، عیدالاضحٰی سے ایک شام پہلے پولی کلینک کے ڈاکٹروں نے فریال تالپور کو کارڈک کیئر اسپتال لےجانے کی تجویز دی مگر انہیں عید والی رات نصف شب زبردستی گھسیٹتے ہوئے اسپتال سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا جوکہ قیدیوں کے بنیادی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی، 12 اگست 2019 عیدالاضحٰی کے دن آصف علی زرداری کو جیل کے اندر عید نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ان کے خاندان والوں کو ان کے ساتھ ملنے نہیں دیاگیا یہی سلوک ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے ساتھ بھی روہ رکھا گیا جوکہ جیل مینوئل کے بلکل برعکس تھی سچ تو یہ ہے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور پر ابھی تک مقدمے کورٹ میں زیر سماعت ہیں جبکہ وہ مجرم ثابت نہیں ہوئے جیل کے قانون کے مطابق تمام قیدیوں کو یہ حقوق حاصل ہیں کہ وہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ عید مل سکیں جیل میں تقریبن 80 دن قید رکھنے کے بعد 4 ستمبر کو انہیں مقدمے کی کاپیاں دی گئیں کچھ دن بعد ان کے وکلا نے ان سے ملنے کی کوشش کی مگر انہیں آصف علی زرداری سے ملنے نہیں دیا گیا جو کہ جیل کے قانون 564 کی خلاف ورزی تھی جو یہ بتاتا ہے کہ زیر حراست قیدیوں کو یہ حقوق حاصل ہیں کہ انہیں مناسب سہولیات دی جائیں اور انہیں اپنے رشتہ داروں، جاننے والے، دوست و احباب اور اپنے قانونی ماہرین کے ساتھ روبرو یا خط و کتابت اور انہیں ان سے رابطہ کرنے اور انٹرویو دینے کی اجازت دی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں مگر یہاں ان سب کے الٹ ہورہا تھا، 10 جون سے ان کو حراست میں لئے جانے کے باوجود انہیں 19 ستمبر 2019 اور 4 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا گیا ان کو جیل میں 125 دن سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے مگر ایک مرتبہ پھر ان کے ریمانڈ میں 22 اکتوبر تک توسیع کردی گئی ہے لیکن اب یہ راز روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے کے نیب کو حزب اختلاف کے رہنماؤں کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے استعمال کیا جارہا ہے، اور اتنی کوششوں کے باوجود نیب آصف علی زرداری کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

اگر وفاقی حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ ان ہتھکنڈوں سے آصف علی زرداری کو ڈرانے میں قامیاب ہو جائینگے تو ان کی یہ سوچ ایک خام خیالی ہوگی اور تاریخ کے نابالغ طالبعلم کے مانند ہوگی، انہیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کو قطعی طور پر نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے شہادت قبول کی مگر اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور مرتے دم تک اپنے موقف پر ڈٹے رہے، شہید محترمہ بینظیر بھٹو مظلوموں کی آواز بن کر جمہوریت کے لیے جنگ لڑتی رہی اور اپنے 35 سال کی سیا ست میں سے 30 سال تک ملک کے آئین، جمہوریت اور غریب عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتی رہیں یہاں تک کہ جمہوریت کے لیے انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کیا مگر اصولوں پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور تاریخ میں امر ہوگئیں، پاکستان کی تاریخ میں سابقہ صدر آصف علی زرداری وہ واحد سیاست دان ہیں جنہوں نے ہمیشہ سازشوں، جھوٹے الزامات، بدترین میڈیا ٹرائل کا سامنا کیا اور کم و بیش گیارہ سال جیل میں رہے اور آج تک کسی بھی جرم میں ملوث نہیں پائے گئے، وہ ہمیشہ اپنے اصولوں پر قائم رہے اس راہ پر چلتے رہے جس راہ پر شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو چلتی رہیں اور اسی راہ میں جنہوں نے شہادت کا جام نوش کیا. آصف علی زرداری کو جیل کی صعوبتیں، زندان میں ٹارچر، کال کوٹھیاں، اپنوں سے دوری اور کسی بھی قسم کی تکلیفیں انہیں جھکا نہیں سکتیں، انہوں نے اپنی جدوجہد سے ایک تاریخ رقم کردی ہے، حظہ کہ ان کے سیاسی حریف بھی انکی بہادری اور دلیری کی مثالیں دیتے ہیں، وہ ایک تاریخ ساز شخصیت بن کے ابھرے ہیں اور تاریخ میں ان کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here