نئے پاکستان کے دو قیدی دو قانون۔ تحریر: رضا مری @razamarri5

0
41

ماضی کے ادوار میں بھی ڈکٹیٹروں اور نیازی جیسے کٹھ پتلی مسلط کردہ حکمرانوں کی جانب سے پیپلزپارٹی کے عوامی رہنماوں کو ہی جیل اور بدترین ٹرائل کا نشانہ بنایا گیا کرپشن اور نیا پاکستان کی راگ الاپنے والے بھی ڈکٹیٹر ضیاء کے جانشین ہیں یوٹرن خان تو اکثر کہا کرتے تھے کہ قانون سب کے لیے ایک ہے تو پھر سندھ کے لیے الگ قانون پنجاب کے لیے الگ کیوں؟ صدر زرداری نہ مجرم تھا، نہ ہے وہ بھٹوازم کا اسیر ہے وہ فقط ضمیر کا قیدی ہےاقتدار ہمیشہ اس کے سامنے ایک قدم کے فاصلے پر ہی رہا ہے، یہ بات کل بھی سچ تھی اور آج بھی سچ ہےکئی ایسے لوگ تھے جو بھٹوازم سے وفا کا دم بھرتے تھے، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کی جدوجہد میں بھٹو کے عاشق زار تھے، ان میں سے بہت سے جان کی بازی تک ہار گئے مگر بیوفائی نہ کی، جیلوں میں گئے بیوفائی نہ کی، کوڑے کھائے بیوفائی نہ کی۔ لیکن ایسے بھی تھے کہ قیمت کی پیشکش ہوئی تو بک گئے، اقتدار کے لالچ میں بیوفائی کر گئے، کئی تو بس ایک آدھ وزارت کی مار ٹھہرے، کئی اس سے بھی کم پر بک گئے
آصف علی زرداری کو تو پورے پورے اقتدار کی پیشکشیں کی جاتی رہیں مگر مولائی اور فقیر کہاں بکتے ہیں عشق و وفا کے اسیر کہاں بکتے ہیں
پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر راہنماؤں کے علم میں ہے کہ جنرل ضیاء بھٹو صاحب کو شہید کروانے کے بعد بھٹو شہید کے بیٹوں شاہنواز و مرتضی کے پیچھے تو لگا ہی ہوا تھا مگر وہ بینظیر بھٹو سے سخت خوفزدہ تھا اس نے کوشش کی کہ بینظیر بھٹو کو قید میں ہی کوئی مہلک بیماری لگ جائے بینظیر بھٹو کو سکھر جیل میں سخت گرمی کے موسم میں تندور کے ساتھ والے کمرے میں قید کئے رکھا کان کا علاج کروانے کی اجازت نہ دی
پھر یہ کوشش کی گئی کہ بینظیر بھٹو کی شادی نہ ہو سکے جہاں جہاں بینظیر بھٹو کی شادی کا امکان پیدا ہوتا اس خاندان کو ڈرایا جاتا دھمکایا جاتا اور لالچ بھی دیا جاتا پنجاب کے ایک خاندان کے بیٹے کو بینظیر بھٹو سے شادی کی خواہش تھی جو کہ بظاہر پی پی پی کا جیالا بھی تھا بیگم نصرت بھٹو کو بینظیر بھٹو کی شادی کی تشویش تھی انہوں نے اس کی والدہ سے رابطہ کیا کہ اگر وہ اپنے بیٹے کی شادی کے لئے خواہش مند ہیں تو باقاعدہ بات کریں جواب حیران کن تھا کہ “میں نےاپنے بیٹے کو جرنیلوں سے قتل کروانا ہے کیا؟
ان حالات میں زرداری قبیلے کے سردار حاکم علی زرداری نے اپنے اکلوتے بیٹے آصف علی زرداری کے لئے بصد شوق یہ چیلنج قبول کیا بیگم نصرت بھٹو کے لئے بینظیر بھٹو کے رشتے کے لئے کچھ تحفظات تھے وہ جانتی تھیں کہ بینظیر بھٹو کا جو بھی شوہر ہوگا وہ جرنیلوں کی زد پر ہوگا اس پر ہر قسم کا دباؤ ڈالا جائےگا تو وہ دباؤ برداشت کرنے کے قابل ہونا چاہئے یہ بھی پیش نظر تھا کہ وہ مالی لحاظ سے مضبوط ہو اور کسی لالچ میں آنے والا نہ ہو
آصف علی زرداری میں یہ تمام خوبیاں موجود تھیں مثلاً
۱- آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری نے ہر مارشل لاء کی مخالفت کی ہوئی تھی حتی’ کہ جب ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کی کابینہ میں تھے تب بھی حاکم علی زرداری جنرل ایوب کے خلاف نیشنل عوامی پارٹی (موجودہ عوامی نیشنل پارٹی ) میں تھے اور نوابشاہ سے جنرل ایوب کی پارٹی کے امیدوار کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے تھے یعنی آصف علی زرداری کا خاندان آمریت کے خلاف جدوجہد کرنے کا تاریخی ریکارڈ رکھتا تھا
۲- آصف علی زرداری کا خاندان مالی لحاظ سے مضبوط تھا نوابشاہ میں سینکڑوں ایکڑ زمین کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ٹاپ کلاس بزنس مین بھی تھا
۳- آصف علی زرداری جمہوریت کا اسیر تھا اور وفا کی ایک مثال قائم کرنے کے چیلنج کو قبول کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار تھا
چنانچہ رشتہ طے ہوگیا حاکم علی زرداری پر حاکم وقت کی طرف سے رشتہ توڑنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا آصف علی زرداری کو ڈرایا گیا وزارتوں اور اقتدار کا لالچ دیا گیا متبادل رشتے پیش کئے گئے مگر آصف علی زرداری اور ان کا پورا خاندان ڈٹا رہا ایسے دباؤ کے بارے میں حاکم علی زرداری کا ایک انٹرویو بھی موجود ہے
آصف علی زرداری اور محترمہ بینظیر بھٹو کی شادی ایک عام شادی نہ تھی بلکہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کا عہد نامہ بھی تھا
لہٰذا یہ بھی ریکارڈ پر ہےکہ بینظیر بھٹو کی بارات والے دن ککری گراؤنڈ لیاری کراچی میں دلہا و دلہن (آصف و بینظیر) خوش و خرم اسٹیج پر موجود تھے تو ایک صحافی نے اچانک آصف علی زرداری سے سوال کیا کہ جب بینظیر بھٹو جیل چلی جایا کریں گی تو وہ کیا کیا کریں گے؟ آصف علی زرداری نے فورا” جواب دیا کہ اب محترمہ جیل نہیں جائیں گی بلکہ وہ خود جایا کریں گے یعنی آصف علی زرداری اپنی بینظیر بھٹو کی شادی کے تمام نتائج و انتقام سے آگاہ تھے وہ ایک تاریخ رقم کرنے کے لئے تیار تھے پھر اتہاس نے دیکھا کہ جب محترمہ کی پہلی حکومت توڑے جانے کے بعد آصف علی زرداری کو گرفتار کیا گیا آصف علی زرداری پر اور ان کے والد پر بینظیر بھٹو کو طلاق دینے کے لئے دباؤ ڈالے گئے اقتدار کے لالچ دئیے گئے مگر آصف علی زرداری پوری وفا کے ساتھ ڈٹا رہا
اس کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف طرح طرح کے جھوٹے الزامات پر مبنی مقدمات بنا بناکر کردار کشی کی انتہا کردی گئی میڈیا کے لفافہ اینکروں کا خوب استعمال کیا گیا جب اڑھائی سال بعد آصف علی زرداری کی ضرورت پڑگئی تو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے آصف علی زرداری کو جیل سے سیدھا اسلام آباد بلاکر وفاقی وزیر کا حلف دلوا دیا تمام جھوٹے مقدمے اور الزامات بھول کر اقتدار آصف علی زرداری کے قدموں میں ڈال دیا گیا پھر محترمہ کی دوسری حکومت توڑے جانے کے بعد آصف علی زرداری کو گورنر ہاؤس لاہور سے گرفتار کیا گیا مضحکہ خیز الزامات لگا لگا کر مقدمے بنائے گئے، الزام لگایا گیا کہ گرفتاری کے وقت ان سے بیس ٹن سونا اور دو ارب ڈالر برآمد کئے گئے جو آج تک کوئی نہیں بتا سکا کہ وہ سونا اور ڈالر کہاں ہیں؟؟
جیل میں آصف علی زرداری پر طرح طرح کا تشدد کیا گیا بینظیر بھٹو کو طلاق کے کاغذات پر دستخط کروانے کے لئے دباؤ ڈالا گیا زبان کاٹی گئی گردن پر زخم لگائے گئے مگر آصف ڈٹا رہا وفا پر حرف تک نہ آنے دیا آخر کار کئی سال کی قید کے بعد آصف علی زرداری کو رہا کرنا پڑا اب ملک دہشتگردی کی زد میں تھا ملک و قوم کو پاکستان پیپلزپارٹی اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی اشد ضرورت تھی محترمہ جلاوطنی ترک کرکے آگ کے دریا میں کود پڑیں دشمن قوتوں نے بینظیر بھٹو کو شہید کروا دیا اب ملک میں آگ لگی ہوئی تھی آصف علی زرداری نے آگے بڑھ کر ملک کو سنبھالا اور مشکلات سے نکالا یعنی قیدی صدر مملکت بن گیا افواج پاکستان کا سپریم کمانڈر بن گیا تمام جھوٹے مقدمے اور الزامات دھرے کے دھرے رہ گئے سی پیک، ایران گیس پائپ لائن، اٹھارویں ترمیم جیسے عظیم الشان کارنامے سرانجام دیںے پانچ سال مکمل کئے پھر تمام مقدموں میں ایک ایک کر کے عدم ثبوتوں کی بنیاد پر بری ہوئے اقتدار ہمیشہ آصف علی زرداری کے قدموں میں رہا ہے، حال ہی میں سب نے دیکھا کہ آج بھی سندھ کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ 70 دہائی والا ناروا سلوک روا رکھا جارہا ہے پنجاب کا بیٹا علاج کے لئے لندن تک جاسکتا ہے مگر سندھ کے بیٹے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کو پنجاب سے سندھ کے ہسپتال میں علاج کی اجازت نہیں آپ کے ان رویوں کی وجہ سے ملک متعدد مشکلات سے دوچار ہے
عوام دشمن قوتیں یہ بات زہن نشین کرلیں کہ یہ وہی آصف علی زرداری ہے جو گیارہ سال جیل میں خوشی خوشی گزارے لیکن کوئی سودےبازی نہیں کی جمہوری روایات کے امین ہیں وفا نبھائیں گے وہ گڑھی خدا بخش کے گنج شہیداں میں دفن ہونا چاہتے ہیں وہ یہ کردار بھرپور طریقے سے نبھائیں گے وہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی انکوائری کے نام پر گرفتار ہیں وہ جب چاہیں اقتدار میں آ سکتے ہیں مگر عشق میں سودےبازی کو حرام سمجھتے ہیں جو لوگ آج ان پر لگائے جانے والے الزامات پر ایمان لائے ہوئے ہیں وہ کل کو سیف الرحمان کی مانند شرمندہ ہوں گے اور جن پر حقیقت واضع ہے وہ آصف علی زرداری کے ساتھ کھڑے رہیں گے کوئی اور ہوتا تو اصولوں کو پس پشت ڈال کر اقتدار قبول کر لیتا جمہوریت اس ملک کی منزل ہے آئین کی بالادستی لازم ہے جمہوریت کی جدوجہد کرنے والے امر ہیں آصف علی زرداری نے تاریخی کردار ادا کیا ہے
جیالے پرامید ہیں انشاءاللہ آصف علی زرداری صاحب ایک بار پھر بےگناہ ثابت ہوکے باعزت بری ہونگے
جناب آصف علی زرداری شہید ذوالفقار علی بھٹو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے فکر اور فلسفے پر ثابت قدم ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here