پاکستان پیپلزپارٹی کی مزاحمتی سیاست اور وقت کے فرعونوں کو دور حاضر کے مخدوم بلاول اور وقت کی بینظیر بی بی آصفہ بھٹو کی للکار. – تحریر عبدالماجد کلوڑ

0
249

کثیر وقت گزﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ شہید ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ میں ﺩﮬﮍﮎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﻣﻠﮏ ﭘﺮ ﺭﺍﺝ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ، شہید ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﮐﺌﯽ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺻﻞ ﻭﺟﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻮﺍﻣﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﺎ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺍﻗﺘﺪاﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﭼﻨﺪﺑﺎﻻﺩﺳﺖ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮔﯿﺮﺩﺍﺭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﯿﺮﺍﺙ ﺗﮭﯽ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻃﺒﻘﮧ ﻣﻼﺅﮞ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺍﮨﻢ ﻗﻮﺕ ﺑﯿﻮﺭﻭ ﮐﺮﯾﺴﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﭘﺲ ﭘﺸﺖ ﺭﮦ ﮐﺮ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﻭﺭﺩﯼ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﮐﺮ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺐ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ ﻧﻌﺮﮦ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﺎ ﺳﺮﭼﺸﻤﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮍﮮ ﻣﺤﻼﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻠﺒﻠﯽ ﻣﭻ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺧﻄﺮﮮ
ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﻧﮯ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﭘﺮ ﮐُﻔﺮ ﮐﺎ ﻓﺘﻮﯼ ﻋﺎﺋﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮﻕ ﺩﺭ ﺟﻮﻕ ﺷﮩﯿﺪ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋلی ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺗﯿﮟ کرنا شروع ﮐﺮﺩﯾﮟ ﻭﮦ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﻧﮑﯽ ﺑﺴﺘﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮐﯿﭽﮍ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﭘﯿﺪﻝ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﺎﺳﭙﻮﺭﭦ ﺳﺐ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﺎﻡ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭼﻨﺪ ایک لوگ ﮨﯽ ﭘﺎﺳﭙﻮﺭﭦ ﺑﻨوا ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮨﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺷﻨﺎﺧﺘﯽ ﮐﺎﺭﮈ ﮐﯽ ﺍﺳﮑﯿﻢ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻭﻭﭦ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺍ ﮨﺮ ﻏﺮﯾﺐ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻭﭦ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﻻﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ 1970ﺀ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﮈﻭﺭیں ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﻠﮏ ﺩﻭﻟﺨﺖ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ، ﻗﻮﻡ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﺗﮭﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ 90 ﮨﺰﺍﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻗﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺷﮩﯿﺪ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ ﺍنہیں ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺩﯾﺎ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﯿﻢ ﺍﻧﺪﺭﺍ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﻮ ﻣﺬﺍﮐﺮﺍﺕ ﭘﺮ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺷﻤﻠﮧ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ 90 ﮨﺰﺍﺭ ﻗﯿﺪﯼ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮐﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻼﻗﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻧﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﻞ ﮔﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﮨﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﮐﺎﺭ ﻧﺎﻣﮧ 1973 ﺀﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻭ ﻣﺘﻔﻘﮧ ﺁﺋﯿﻦ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺻﺤﯿﺢ ﻣﻌﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯿﻦ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ 1956 ﺀﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ ﺁﺋﯿﻦ ﺑﻨﺎﺟﺴﮯ 1958 ﺀﺍﯾﮏ ﺁﻣﺮ ﻧﮯﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺷﺨﺼﯽ ﺁﺋﯿﻦ ﻣﻠﮏ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ 1962 ﺀﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏﺁﻣﺮﻧﮯ ﻣﺴﻠﻂ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺷﺨﺼﯽ ﺁﺋﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺁﻣﺮﻧﮯ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﮐﮯ ﻟﯿﮕﻞ ﻓﺮﯾﻢ ﺁﺩﯾﻨﻨﺲ ( LFO ) ﻧﺎﻓﺬ ﮐﯿﺎﺟﻮ 1973 ﺀﺗﮏ ﻣﺴﻠﻂ ﺭﮨﺎ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻋﻮﺍﻣﯽ ﻟﯿﮉﺭ ﺷﮩﯿﺪ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ 1973 ﺀﻣﯿﮟ ﻣﺘﻔﻘﮧ ﺁﺋﯿﻦ ﺑﻨﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺛﻤﺮﺍﺕ ﺍﺏ ﺗﮏ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﯿﮟ ۔ 1973 ﺀﮐﮯ ﺁﺋﯿﻦ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﮨﻢ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﮐﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﭘﯿﭙﻠﺰﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﻣﺨﺎﻟﻔﯿﻦ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﺨﻂ ﮐﯿﺌﮯ۔ ﯾﮧ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﮐﯽ ﺑﺎﻻﺩﺳﺘﯽ ﮐﮯ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺍﺻﻮﻝ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ﺗﮭﺎ ﺁﺋﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﺨﻂ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻮﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﺑﻨﺎﺋﻨﯿﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﮑﻨﺮﭦ ﻟﺴﭧ ﮐﺎ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻮﻟﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﻭﺳﺖ ﻋﺮﺏ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﻮﮐﺮﯾﺎﮞ ﻣﻠﯿﮟ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﭘﺮﻭﺟﯿﮑﭧ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺌﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﺳﭩﯿﻞ ﭘﻮﺭﭦ ﻗﺎﺳﻢ اتھاﺭﭨﯽ، ﺍﯾﭩﻤﯽ ﭘﻼﻧﭧ، ﮐﺮﺍﭼﯽ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﻓﻼﺋﯽ ﺍﻭﻭﺭ ﺷﮩﯿﺪ ﻣﻠﺖ ﻓﻼﺋﯽ ﺍﻭﻭرﺯ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﺌﯽ ﺍﮨﻢ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ. ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﺍﯾﭩﻤﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﮐﮭﯽ اور کہا “ہمیں (پاکستانیوں) کو اگر گھاس کھانی پڑی تو کھائیں گے، بھوکا رہنا پڑا تو رہیں گے لیکن ہم آئٹم بم ضرور بنائیں گے، آج اُسی ایٹمی توانائی کی وجہ سے کوئی بھی دشمن میلی آنکھ اُٹھا کر دیکھ سکتا، بھٹو نے ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﺟﺪﯾﺪ ﺁﻻﺕ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﯿﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﮔﺮ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺾ ﻗﻮﺗﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﭘﺮ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺑﺎﻻﺩﺳﺘﯽ ﺳﮯ ﻧﺎﻻﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻔﺎﺩﺍﺕ ﺧﻄﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺯﺵ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺨﺎﻟﻔﯿﻦ ﮐﻮ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺭﻗﻢ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻗﻮﻣﯽ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻧﻮﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﺑﻨﺎﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﭼﻼﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ” ﻧﻈﺎﻡ ﻣﺼﻄﻔﮯ“ ﮐﮯ ﻧﻔﺎﺫ ﮐﺎﻧﻌﺮﮦ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ جمھوریت دشمن قوتوں نے سوچا کہ اس تحریک سے بُھٹو کی حکومت ختم ہو جائے گی لیکن جب ﺗﻤﺎﻡ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﭘﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ اور تحریک کا اختتام ہوا ﺗﻮ ﺍﭼﺎﻧﮏ 5 جولائی 1977 کو ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﮑﯽ ﻣﯿﮟ ڈکٹیٹر ﺿﯿﺎﺀﺍﻟﺤﻖ ﻧﮯ اس سوچ کے ساتھ آئین کو معطل کر دیا اور ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﺮﻟﯿﺎ کہ اس سے ذوالفقار علی بھٹو کی مقبولیت کم ہوجائے گی ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺣﻠﻔﯿﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ 90 ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﮐﺮﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ. ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﺼﺮﺕ ﺑﮭﭩﻮ نے انتخابی ﺗﺤﺮﯾﮏ ﭼﻼنے کا اعلان کیا تو اُن کی بیٹی اور بھٹو کی پنکی نے اپنے باپ کے فلسفے کو اپنی ماں کے ساتھ مل کر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﮯ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﻋﻠﯿﺤﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯ ﺑﻌﺪ ﻧﺸﺘﺮﭘﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﻠﺴﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻧﺸﺘﺮﭘﺎﺭﮎ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻢ ﻏﻔﯿﺮ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﭩﺮﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﻮﺍﻡ ہی عوام ﺗﮭﮯ ﺧﻔﯿﮧ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺿﯿﺎﺀﺍﻟﺤﻖ ﮐﻮ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺩﯼ ﮐﮯ ﭘﯿﭙﻠﺰﭘﺎﺭﭨﯽ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﺳﮯ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﻣﻠﺘﻮﯼ ﮐﺮﺩﯾﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻃﻮﯾﻞ ﺁﻣﺮﯾﺖ ﮐﺎ ﺩﻭﺭ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ، ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺳﺰﺍﺅﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﮐﻨﻮﮞ ﮑﻮ ﮐﻮﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺎﻧﺴﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ ﺩﯼ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ حتی ﮐﮧ ﺻﺤﺎﻓﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﮌﮮ ﻣﺎﺭﮮ ﮔﺌﮯ۔ اﺑﻌﺪﺍﺯﺍﮞ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻮﺙ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﺑﻌﺾ ﺟﺠﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﯾﭩﺎﺋﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻧﺎﻣﮧ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﮐﺴﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺟﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﺳﺰﺍ ﯾﻌﻨﯽ ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﮐﯽ ﺳﺰﺍﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺟﺒﮑﮧ 7 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 3 ﺟﺠﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﯾﻌﻨﯽ ﺟﺠﻮﮞ ﮐﻮﺭﯾﭩﺎﺋﺮ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮦ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﯿﭙﻠﺰﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ 4 ﺍﭘﺮﯾﻞ1979 ﺀﮐﻮ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻻﻋﻠﻢ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ تھا ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺗﮭﺎ ۔ایک ﻧﻈﺮﯾﮧ ﺗﮭﺎ ۔ ﺟﺴﮯ ﻧﮧ ﺯﻧﺠﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍﺍ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻗﯿﺪ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﺩﯼ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﻣﺠﯿﺐ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺷﺎﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﭩﻮﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻧﮑﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺧﻼﻑ ﻻﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ ﻟﮑﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺑﮭﭩﻮ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻟﯿﮉﺭ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﯽ ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﮐﮯ 7 ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﻻﮨﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺎﺣﺒﺰﺍﺩﯼ بینظیر بھٹو ﺟﻼﻭﻃﻨﯽ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﻻﮨﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﺱ ﻻﮐﮫ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﺍﺟﺘﻤﺎﻉ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ اور 1988 میں ہونے والے انتخابات میں بھٹو کی بیٹی نے اسلامی ممالک کی پہلی منتخب وزیراعظم بن کر تاریخ رقم کی تو ایک بار پھر جمھوریت دشمن قوتیں سر جوڑ کر بیٹھ گئیں اور جس طرح ماضی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف سازشیں کرتے تھے اب بینظیر بُھٹو کے خلاف کرنے لگے، دو مرتبہ اُن کی حکومت کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح بینظیر بُھٹو کے خلاف فتوے جاری کیے گئے، کرپشن کے الزامات لگائے گئے، ان کے خاوند کے خلاف جھوٹے مقدمات بنا کر 11 سال سے زیادہ عرصے تک اُن کے خاوند کو جیل میں قید رکھا، لیکن بینظیر ﺑﮭﭩﻮ کے حوصلے اور اُن کی مقبولیت اور عوام کے دلوں میں محبت کم نہ کر سکے اور اپنی سازشیں جاری رکھی اور بل آخر 27 دسمبر 2007 ﮐﻮ بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں شہید ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ اک بار پھر ﯾﮧ ﺗﺼﻮﺭ ﮐرنے لگے کہ اب پاکستان پیپلز پارٹی ختم ہو جائے گی، اب اس ملک میں کوئی جمھوریت یا غریب عوام کی بات نہیں کریگا، لیکن شہید محترمہ بینظیر بُھٹو کے خاوند آصف علی زرداری نے “پاکستان کھپے” کا نعرہ لگایا اور جمہوریت کی بات کی تو جس طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بعد شہید محترمہ بینظیر بُھٹو نے اپنی ماں کے ساتھ مل کر اپنے باپ کے فلسفے اور سوچ کو آگے بڑھایا، اسی طرح 19 سال کے بلاول نے اپنے باپ کے ساتھ مل کر اپنی ماں اور نانا کے نا مکمل مشن کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا اور اپنی تعلیم مکمل کرنے چلا گیا اور 2008 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی واضع اکثریت کے ساتھ حکومت میں آئی اور آصف زرداری صدر بنے تو انہوں نے اٹھارویں ترمیم کے تحت شہید ذوالفقار علی بھٹو کے آئین کو بحال کیا اور 58/2 کو ختم کیا جس کے ذریعے ماضی میں صدور اسمبلیاں توڑ کر منتخب حکومتوں کو ختم کر دیتے تھے صدر زرداری نے اپنے وہ اختیارات وزیراعظم کو دیکر جمھوریت کو مضبوط کیا، شہید ذوالفقار علی بھٹو کے منشور کے مطابق صوبوں کو حقوق دیے اور 2013 میں اپنے 5 سال پورے کر کے تاریخ لکھی اور اور ملک میں اپنی مدت پوری کرنے والے پہلے جمہوری صدر کا اعزاز حاصل کیا. جب بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تعلیم مکمل کی اور 18 آکتوبر 2014 میں جب اپنی سیاست کا آغاز کیا تو کچھ رائیٹ ونگ کے سیاستدان اس کو بچہ کہنے لگے، لیکن جب 2018 کے الیکشن میں پہلی بار وہ بچہ ایم این اے منتخب ہوکر آیا اور پارلیمنٹ میں اپنی پہلی ہی تقریر میں اپنے نانا اور ماں کی طرح بلند آواز میں غیر جمہوری قوتوں کو للکارا اور عمران خان کو سلیکٹیڈ وزیراعظم کہا اور اس کو لانے والوں کو ایکسپوز کرنا شروع کیا تو ماضی میں جس طرح ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بُھٹو اور آصف زرداری کی طرح اب بلاول کے خلاف سازشیں ہونے لگیں اور 27 ڈسمبر 2018 کو شہید محترمہ بینظیر بُھٹو کی 11ویں برسی کے دن ایک جھوٹے مقدمے میں انویسٹیگیشن کے نام پر اس کے خاوند آصف علی زرداری اور بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے نام ECL میں ڈال دیے گئے، ایک بار پھر عربوں روپیہ کی کرپشن کا الزام لگایا گیا اور کورٹوں میں بلایا جانے لگا تو صدر زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کورٹوں میں پیش ہونے لگے، لیکن نیب ان کے خلاف کوئی پختہ ثبوت پیش نہ کر سکا تو اس وقت کے چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا کہ بلاول بھٹو زرداری کا نام ECL میں کیوں ڈالا گیا ہے پھر اچانک کیس راولپنڈی منتقل کیا گیا اور اب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو نیب کورٹ بلایا جانے لگا وہ تعاون کرتے رہے باوجود اسکے کہ نیب ان کے خلاف وہاں بھی کوئی ثبوت نہیں دے سکا پھر بھی صدر زرداری کو ڈیڈھ کروڑ کے الزام میں گرفتار کیا گیا کیوں کہ اصل مسلا 18ویں ترمیم کا تھا.

گیارہ سال کی بیگناہ اسیری کی بعد آج ایک بار پھر ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ صاحب کو نیب گردی کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے میں پوچھنا چاہتا ہوں آمریت کی پیداوار نیب اور نیازی سے پچھلے گیارہ سال جیل میں آصف علی زرداری نے جو گزارے بی بی شہید سے دور بچوں سے دور اسکا حساب کون دیگا؟
ماضی میں بھٹو شہید کیساتھ اسکی پنکی بینظیر بیگناہ جیل کے چکر کاٹتی رہی، آج ایک بار پھر پنڈی والوں کے اسیر جناب آصف علی زرداری جیل میں ہیں تو بی بی آصفہ کی شکل میں ایک بینظیر آج بھی اپنے بھائی کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اور وقت مردار کے فرعونوں کو للکار رہی ہے وقت بدلا ہے دن بدلے ہیں لیکن جمہوریت دشمن قوتوں کی سوچ آج بھی ظالم ضیاءالحق والی ہی ہے، ﯾﮧ ﺩﺭﺍﺻﻞ شہید ذوالفقارعلی بھٹو کے بیگناہ لہو، بی بی کی شہادت اور آصف علی زرداری صاحب کی بیگناہ اسیری کا اثر ہے اور پیپلزپارٹی ﮐﮯ ﻧﻈﺮﯾﮯ ﮐﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ بھٹو ﺯﻧﺪﮦ ﮨﮯ.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here