5 جولائی یومِ سیاہ! (تحریر: کامریڈ رضامری پیپلزیوتھ شہیدبینظیرآباد @Razamarri5

0
250

5 جولائی 1977 کو جِن غریبوں مزدوروں کسانوں نوجوانوں طلباء حتہ’ کہ ہر مظلوم محروم کی آواز
ذوالفقار علی بھٹو کی دبانے کی کوشش کی گئی تھی۔

لیکن کیا آپنے کبھی نوٹ کیا ہے؟
کہ ایک نوجوان لیڈر پچھلے کئی سالوں سے شہر شہر گھوم رہا ہے، ہزاروں افراد اُسکو خوش آمدید کہہ رہے ہیں،
ہاتھوں میں اپنی پارٹی کا عوام دوست منشور لئے خود عوام کو بیان کر رہا ہے،
بھٹو خاندان اور پیپلزپارٹی کے جیالوں کی ان گنت شہادتوں کے باوجود چہرے پر مسکراہٹ لئے دہشت گردی انتہا پسندی سے پاک صوبائی اکائیوں کے برابری پر ایک خوشحال اور مستحکم پاکستان کا پیغام دے رہاہے،
ایک بھی گالی یا غیر شائستہ بات ابھی تک نہ کر کے یہ پیغام دیں رہا ہے، کہ سیاست گالیوں سے نہیں بلکہ صرف عوامی خدمت کے پروگرام سے ہی ممکن ہے،

5 جولائی 1977ء یومِ سیاہ ضرور ہےمگر جیالوں کےلیئے یہ دن باعث فخر بھی ہے کہ انکا قائد نہ قید سے گھبرایا ،نہ آنسو بہائے، نہ خفیہ معاہدے کیئے، نہ ملک سے بھاگا اور نہ ہی کوئی اور واویلا کیا بلکہ ظلم اور نانصافی کے خلاف ڈٹا رہا، اپنا مقدمہ خود لڑتا رہا اور دنیا کی عدالت سے سزا پا کر تاریخ میں زندہ و جاوید ہو گیا۔

5 جولائی یوم سیاہ
کوڑوں سے کمر مضبوط ہوئی
سُولی سے زندہ اترے ہم
ھمالیہ سے بلند حوصلے ہمارے، سرخ سلام ملکی تاریخ کے بدترین جدالفساد فساد کا مائی باپ “آمر ضیاء الباطل” کی منحوس آمریت کے ساتھ لڑنے والوں کو۔
بھٹو ازم کے بیباک شہید و اور غیور غازیوں قوم آپکی احسانمند ہے کہ جن کے لیئے آپ نے اپنی زندگیاں اپنی جوانیاں اپنی خوشیاں اپنے خواب عظیم مقصد پے قربان کر دیئے،

پاکستان پیپلزپارٹی اور عوام ایک دوسرے کیلئے لازم ملزوم ہے۔

5 جولائی 1977 یہ پیغام دیں رہی ہے کہ
تم کتنے بھٹو ماروگے۔
ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here