5 جولائی 1977ء یوم سیاہ کیوں؟ صابق صدر پی ایس ایف سندھ و صابق کوآرڈینیٹر پی ایس ایف پاکستان میر سہراب خان مری کے قلم سے. @MirSohrab

0
222

ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﮨﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﻥ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﻢ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺾ ﺍﯾﺎﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﺒﻖ ﺁﻣﻮﺯ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻣﻨﻔﯽ ﯾﺎ ﻣﺜﺒﺖ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﻧﮑﻮ ﺟﺎﻧﭽﻨﮯ،ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﭘﺲ ﻣﻨﻈﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﻕ ﻭﺳﺒﺎﻕ ﮐﻮ ﻣﺪ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ
ﮨﮯ، ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ 5 ﺟﻮﻻﺋﯽ 1977ﺀ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ہی ﺩﻥ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺳﻤﺎﺝ ﮐﯽ ﻧﻔﺴﯿﺎﺕ ﭘﺮ ﮔﮩﺮﮮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻣﺮﺗﺐ ﮐﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺩﮬﺎﺭﮮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ نئے رخ ﭘﺮ ﻣﻮﮌ ﺩﯾﺎ،
5 ﺟﻮﻻﺋﯽ (1977ﺀ ) ﻭﮦ ﺯﮨﺮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ شہید ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﮯ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺍﺋﯿﺖ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮔﮍﮬﯽ ﺧﺪﺍ ﺑﺨﺶ ﮐﮯ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﮔﯿﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺳﮯ ﻭﺍﺑﺴﺘﮧ ﺍﻥ ﮔﻨﺖ ﮐﺎﺭﮐﻨﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻃﺮﯾﻘﻮﮞ ﺳﮯ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ ﺍﺳﯽ ﺯﮨﺮ ﮐﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ شہید ﺑﮭﭩﻮ ﮐﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﮨﻞِ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻮﺍ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻧﯿﺰ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ
ﻏﺮﯾﺐ ﻋﻮﺍﻡ ﻭ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺶ ﺑﮭﯽ ﺗﺎ ﺣﺎﻝ ﺍﺱ ﺯﮨﺮ ﮐﮯ ﺯﯾﺮ ﺍﺛﺮ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﻔﻠﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﺫﻟﺖ ﺁﻣﯿﺰ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﮍﮮ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﻮ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺗﺴﻠﺴﻞ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﻮ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺗﺴﻠﺴﻞ ﺳﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﯾﺎ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﺎ ﺟﺰﻭﯼ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺍﺭﯼ ﺗﻮ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔

ﻟﮩٰﺬﺍ 5 ﺟﻮﻻﺋﯽ ﺟﺴﮯ ﯾﻮﻡ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ شہید ذوالفقار علی ﺑﮭﭩﻮ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺳﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﻮﺭ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ 5 ﺟﻮﻻﺋﯽ ﮐﮯ ﺟﻨﻢ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺳﻤﺎﺝ ﮐﻮ ﺗﺎﺭﺍﺝ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺗﻌﻔﻦ ﺯﺩﮦ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﺗﺎ ﺣﺎﻝ ﺍﺳﯽ ﮐﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺍﻟﻤﯿﮧ
ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﮐﺌﯽ ﻧﺴﻠﯿﮟ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ!
ﻭﻗﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﺑﺮﺳﻮﮞ
ﺣﺎﺩﺛﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ،

پاکستان کی عوام ہر سال 5 جولائی کا دن یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہے، کیونکہ اس دن 1977ء کو ایک آمر، جنرل ضیاء الباطل نے عوام کے منتخب وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کو ختم کر کے ملک میں کثیرالمیاد مارشل لاء نافذ کر دیا اور دس سال تک سیاہ و سفید کا مالک بن کر بین الاقوامی سازشیوں کو خوش کرتا رہا۔ یہ آمر پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنمائوں، کارکنوں اور صحافیوں کو کچلتا رہا، ان کو نام نہاد مقدمات کے تحت عمر قید اور موت کی سزائیں دی گئیں، ایک جھوٹے مقدمہ کے ذریعے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو کئی سال تک جیل میں رکھ کر ایک عدالتی فیصلہ کے تحت 4 اپریل 1979ء کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک قومی لیڈر، دوراندیش زیرک سیاستدان، مدبر راہنما اور کرشمہ ساز شخصیت تھے، انھوں نے سیاست کو سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ڈرائنگ رومز سے نکال کر غریبوں اور محروموں کی دہلیز پر لا کھڑا کیا، اس تبدیلی کی بدولت بے زبان اور مظلوم عوام کو زبان ملی اور انھیں اپنے حق کے لیے لڑنے کا سلیقہ آیا، آج کا جمہوری نظام بھٹو شہید کا قوم کو تحفہ ہے. عوام کو عزت ِ نفس اور خود اعتمادی دی، بھٹو شہید جانتے تھے کہ عوام کے حق میں مثبت اور پائیدار تبدیلی محض نعروں سے نہیں آ سکتی لہذا انھوں نے ایک طرف خلیجی ممالک میں پاکستانی عوام کے لیے روزگار کے بے پناہ مواقع مہیا کیے مفت تعلیم کے دروازے کھولے تو دوسری جانب پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد رکھی، اسٹیل مل کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا جاگیرداری اور سرداری نظام کا خاتمہ کیا اور سب سے بڑھ کر تیسری دنیا اور اسلامی دنیا سے ہمارے تعلقات کے تعین میں ایک سنہری باب ہے اور پاک چین دوستی کا معمار شہید بھٹو ہے.

5 جولائی 1977 ء کے بعد ساری پاکستانی قوم اور دنیا نے دیکھا کہ اس ملک کو جمہوری آئین دینے والے، اسلامی دنیا کے اتحاد کے پیامبر پاک چین دوستی کے معمار ختم نبوت کو آئین اور قانون میں شامل کر کے اسلام کو سرفراز اور بلندکرنے والے بھارت سے 90 ہزار جنگی قیدی چھڑانے والے اور غریبوں مظلوموں اور مسکینوں کے ہمدرد بھٹو کے ساتھ کیا ہوا ایک آمر ضیاءالباطل نے اپنے اقتدار کے دوران یہ درخشندہ چراغ گل کر دیا۔ ضیاء الباطل کے دورِ حکومت میں فحاشی، منشیات فروشی، بے حیائی، کلاشنکوف کلچر، طالبانائزیشن، جہاد کے نام پر ظلم بھی پروان چڑھے جو آج تک پاکستان بھگت رہا ہے،

اقتدار اور حکومت ڈکٹیٹر ضیاء الباطل کا حق نہیں تھا مگر اُس نے اقتدار پر ناجائز قبضہ کیا، 90 دن میں انتخابات کا وعدہ کیا اور بلا وجہ اقتدار پر زبردستی قبضہ رکھنے کے لیے قدم قدم پر جھوٹ اور منافقت کا سہارا لیا پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کے لیے پارٹی کے راہنمائوں کارکنوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ان پر کوڑے برسائے گئے عمر قید اور موت کی سزائیں دی گیئں، ڈکٹیٹر ضیاء نے اپنے بیرونی آقاوں کو خوش کرنے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹم بم بنانے اور اسلامی بلاک بنانے پر ظالمانہ اور وحشیانہ سزادی گئی.

وقت بڑا منصف ہے بھٹو کی شہادت کے 40 سال بعد بھی ہم نے دیکھ لیا کہ بھٹو شہید نے عوام اور ملک سے اپنی سچی لگن کی بدولت صبر سے ملک اور عوام کے دلوں پر حکومت کی اور اس کا قاتل آج تک محروم و تنہا ہے اور عوام بھٹو شہید کے ویژن عمل اور قربانی کو یاد رکھے ہوئے ہیں. یہی وجہ ہے کہ آج 40 سال بعد بھی بھٹو زندہ ہے اور عوام کے دلوں کی دھڑکن ہے، آج بھی پاکستان کے ہر کونے سے ’’شہید بھٹو زندہ باد‘‘ کی آوازیں گونجتی سنائی دیتی ہیں، یہ جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کی عظیم جدوجہد اور قربانی کا ثمر ہے کہ آج جمہوریت پھل پھول رہی ہے۔

میں تاریخی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ بھٹو ایک سوچ ایک نظریہ بن چکا ہے جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی ختم کر سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here